Showing posts with label کتاب الزکوٰۃ. Show all posts
Showing posts with label کتاب الزکوٰۃ. Show all posts

Friday, November 7, 2014

خیرات کرنے میں جلدی کرنی چاہیے || حدیث نمبر : 1430



صحیح بخاری
کتاب الزکوٰۃ

باب: خیرات کرنے میں جلدی کرنی چاہیے

حدیث نمبر : 1430

حدثنا أبو عاصم،‏‏‏‏ عن عمر بن سعيد،‏‏‏‏ عن ابن أبي مليكة،‏‏‏‏ أن عقبة بن الحارث ـ رضى الله عنه ـ حدثه قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم العصر،‏‏‏‏ فأسرع ثم دخل البيت،‏‏‏‏ فلم يلبث أن خرج،‏‏‏‏ فقلت أو قيل له فقال ‏"‏ كنت خلفت في البيت تبرا من الصدقة،‏‏‏‏ فكرهت أن أبيته فقسمته‏"‏‏. ‏

ہم سے ابوعاصم نبیل نے عمر بن سعید سے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر جلدی سے آپ گھر میں تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لے آئے۔ اس پر میں نے پوچھا یا کسی اور نے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں گھر کے اندر صدقہ کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ اسے تقسیم کئے بغیر رات گزاروں پس میں نے اس کو بانٹ دیا۔

Thursday, November 6, 2014

تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت || حدیث نمبر : 1419



صحیح بخاری
کتاب الزکوٰۃ

باب: تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت

حدیث نمبر : 1419

حدثنا موسى بن إسماعيل،‏‏‏‏ حدثنا عبد الواحد،‏‏‏‏ حدثنا عمارة بن القعقاع،‏‏‏‏ حدثنا أبو زرعة،‏‏‏‏ حدثنا أبو هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أى الصدقة أعظم أجرا قال ‏"‏ أن تصدق وأنت صحيح شحيح،‏‏‏‏ تخشى الفقر وتأمل الغنى،‏‏‏‏ ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا،‏‏‏‏ ولفلان كذا،‏‏‏‏ وقد كان لفلان ‏"‏‏.‏

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو۔ تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور امید ہو اور (اس صدقہ خیرات میں) ڈھیل نہ ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا۔

Wednesday, November 5, 2014

اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی || حدیث نمبر : 1490



صحیح بخاری
کتاب الزکوٰۃ

باب: کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے؟
 اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں

حدیث نمبر : 1490

حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ أخبرنا مالك بن أنس،‏‏‏‏ عن زيد بن أسلم،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ قال سمعت عمر ـ رضى الله عنه ـ يقول حملت على فرس في سبيل الله،‏‏‏‏ فأضاعه الذي كان عنده،‏‏‏‏ فأردت أن أشتريه،‏‏‏‏ وظننت أنه يبيعه برخص،‏‏‏‏ فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ لا تشتر ولا تعد في صدقتك،‏‏‏‏ وإن أعطاكه بدرهم،‏‏‏‏ فإن العائد في صدقته كالعائد في قيئه ‏"‏‏.‏


ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کر دیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔