Showing posts with label کتاب الجہاد،صدقہ ، حدیث، اسلامی معلومات. Show all posts
Showing posts with label کتاب الجہاد،صدقہ ، حدیث، اسلامی معلومات. Show all posts

Thursday, November 6, 2014

تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت || حدیث نمبر : 1419



صحیح بخاری
کتاب الزکوٰۃ

باب: تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت

حدیث نمبر : 1419

حدثنا موسى بن إسماعيل،‏‏‏‏ حدثنا عبد الواحد،‏‏‏‏ حدثنا عمارة بن القعقاع،‏‏‏‏ حدثنا أبو زرعة،‏‏‏‏ حدثنا أبو هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أى الصدقة أعظم أجرا قال ‏"‏ أن تصدق وأنت صحيح شحيح،‏‏‏‏ تخشى الفقر وتأمل الغنى،‏‏‏‏ ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا،‏‏‏‏ ولفلان كذا،‏‏‏‏ وقد كان لفلان ‏"‏‏.‏

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو۔ تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور امید ہو اور (اس صدقہ خیرات میں) ڈھیل نہ ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا۔

اگر کوئی چیز کسی کو (صدقہ کے لیے) جو میسر نہ ہو۔ || حدیث نمبر : 6022



صحیح بخاری
کتاب الادب
باب: ہر نیک کام صدقہ ہے

حدیث نمبر : 6022

حدثنا آدم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سعيد بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن جده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ على كل مسلم صدقة ‏"‏‏.‏ قالوا فإن لم يجد قال ‏"‏ فيعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق ‏"‏‏.‏ قالوا فإن لم يستطع أو لم يفعل قال ‏"‏ فيعين ذا الحاجة الملهوف ‏"‏‏.‏ قالوا فإن لم يفعل قال ‏"‏ فيأمر بالخير ‏"‏‏.‏ أو قال ‏"‏ بالمعروف ‏"‏‏.‏ قال فإن لم يفعل قال ‏"‏ فيمسك عن الشر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإنه له صدقة ‏"‏‏.


ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے سعید بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر کوئی چیز کسی کو (صدقہ کے لیے) جو میسر نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اورصدقہ بھی کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو یا کہا کہ نہ کر سکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے۔ فرمایا کہ پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے یا امر بالمعروف کا کرنا عرض کیا اور اگر یہ بھی نہ کر سکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔

Wednesday, November 5, 2014

اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی || حدیث نمبر : 1490



صحیح بخاری
کتاب الزکوٰۃ

باب: کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے؟
 اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں

حدیث نمبر : 1490

حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ أخبرنا مالك بن أنس،‏‏‏‏ عن زيد بن أسلم،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ قال سمعت عمر ـ رضى الله عنه ـ يقول حملت على فرس في سبيل الله،‏‏‏‏ فأضاعه الذي كان عنده،‏‏‏‏ فأردت أن أشتريه،‏‏‏‏ وظننت أنه يبيعه برخص،‏‏‏‏ فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ لا تشتر ولا تعد في صدقتك،‏‏‏‏ وإن أعطاكه بدرهم،‏‏‏‏ فإن العائد في صدقته كالعائد في قيئه ‏"‏‏.‏


ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کر دیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔

Tuesday, November 4, 2014

صدقہ || حدیث نمبر : 2989



صحیح بخاری
کتاب الجہاد

باب: جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھادے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے، اس کا ثواب

حدیث نمبر : 2989

حدثني إسحاق،‏‏‏‏ أخبرنا عبد الرزاق،‏‏‏‏ أخبرنا معمر،‏‏‏‏ عن همام،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كل سلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس،‏‏‏‏ يعدل بين الاثنين صدقة،‏‏‏‏ ويعين الرجل على دابته،‏‏‏‏ فيحمل عليها،‏‏‏‏ أو يرفع عليها متاعه صدقة،‏‏‏‏ والكلمة الطيبة صدقة،‏‏‏‏ وكل خطوة يخطوها إلى الصلاة صدقة،‏‏‏‏ ويميط الأذى عن الطريق صدقة ‏"‏‏.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔